حیثیت تقلید
اس بات سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا کہ دین کی اصل دعوت یہ ہے کہ صرف اللہ تعالٰی کی اطاعت کی جائے،یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی اس لئے واجب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے احکام الٰہی کی ترجمانی فرمائی ہے،کونسی چیز حلال ہے؟ کونسی چیز حرام؟ کیا جائز ہے؟ کیا ناجائز؟ ان تمام معاملات میں خالصۃً اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنی ہے ، اور جو شخص اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے کسی اور کی اطاعت کرنے کا قائل ہو، اور اس کو مستقل بالزات مطاع سمجھتا ہو وہ یقیناً دائزہ اسلام سے خارج ہے، لہٰزہ ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کے احکام کی اطاعت کرے۔

لیکن قرآن و سنت میں بعض احکام تو ایسے ہیں جنہیں ہر معمولی لکھا پڑھا آدمی سمجھ سکتا ہے، ان میں کوئی اجمال،ابہام یا تعارض نہیں ہے، بلکہ جو شخص بھی انہیں پڑھے گا وہ کسی الجھن کے بغیر ان کا مطلب سمجھ لے گا، مثلاً قرآن کریم کا ارشاد ہے:-
لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا
الحجرات،،سورۃ نمبر49آیت12
ترجمہ:- "تم میں سے کوئی کسی کو پیٹھ پیچے برا نہ کہے"
جو شخص عربی جانتا ہو وہ اس ارشاد کے معنی سمجھ جائے گا ، اور چونکہ نہ اس میں کوئی ابہام ہے اور نہ کوئی دوسری شرعی دلیل اس سے ٹکراتی ہے، اسلئے اس میں کوئی الجھن پیش نہیں آئے گی، یا مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے :-

لا فضل لعربی علی عجمی
"کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں"
یہ ارشاد بھی بلکل واضح ہے، اس میں کوئی پیچیدگی اور اشتباہ نہیں ، ہر عربی داں بلا تکلف اس کا مطلب سمجھ سکتا ہے، اسکے برعکس قرآن و سنت کے بہت سے احکام وہ ہیں جن میں کوئی ابہام یا اجمال پایا جاتا ہے، اور ایسے بھی ہیں جو قرآن ہی کی کسی دوسری آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کسی دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتے ہیں ، ہر ایک کی مثال ملاحظہ فرمائیے:-
(1)
وَ الۡمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ
سورۃ: 2 آیۃ: 228
"اور جن عورتوں کو طلاق دیدی گئی ہو وہ تین "قر"۔گزرنے تک انتظار کریں گی"
اس آیت میں مطلقہ عورت کی عدت بیان کی گئی ہے ، اور اس کے لئے "تین قر" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ، لیکن "قر" کا لفظ عربی میں "حیض" (ماہواری) کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور "طہر" (پاکی) کے لئے بھی، اگر پہلے معنی لئے جائیں تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ مطلقہ کی عدت تین مرتبہ ایام ماہواری کا گزر جانا ہے،اور اگر دوسرے معنی لئے جائیں تو تین طہر گزرنے سے عدت پوری ہوگی، اسموقع پر ہمارے لئے یہ سوال پیدہ ہوتا ہے کہ ان میں سے کونسے معنی پر عمل کریں؟

(2)
اک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:-
من لم یترک المخابرۃ فلیؤذن بحرب من اللہ و رسولہ
(ابوداؤد)
"جوشخص بٹائی کا کاروبار نہ چھوڑے وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان جنگ سن لے"
اس حدیث میں بٹائی کی ممانعت کی گئی ہے ، لیکن بٹائی کی بہت سی صورتیں ہیں ، یہ حدیث اس بارے میں خاموش ہے کہ یہاں بٹائی کی کونسی صورت مراد ہے؟
کیا بٹائی کی ہر صورت ناجائز ہوگی؟
یا بعص صورتیں جائز قرار پائیں گی،اور بعض ناجائز؟
حدیث میں اک قسم کا اجمال پایا جارہا ہے، جس کی وجہ سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ بٹائی کو علی الاطلاق ناجائز کہہ دیں؟ یا اس میں کوئی تفصیل یا تقسیم ہے؟

(3)
اک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:-
من کان لہ امام فقراءۃ الامام لہ قراءۃ
"جس شخص کا کوئی امام ہوتو امام کی قراءت اسکے لئے بھی قراءت بن جائے گی"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ نماز میں جب امام قراءت کر رہا ہو تو مقتدی کو خاموش کھڑا رہنا چاہیئے ، دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ارشاد ہے :-
لاصلواۃ لمن لم یقراء بفاتحۃ الکتاب
(بخاری)
"جس شخص نے سورہء فاتحہ نہ پڑھی اسکی نماز نہیں ہوگی"
اس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کے لئے سورہء فاتحہ پڑھنی ضروری ہے ، ان دونوں حدیثوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ سوال پیدہ ہوتا ہے کہ آیا پہلی حدیث کو اصل قرار دیے کر یوں کہا جائے کہ دوسری حدیث میں صرف امام اور منفرد کو خطاب کیا گیا ہے اور مقتدی اس سے مستثنٰی ہے ، یا دوسری حدیث کو اصل قرار دے کر یوں کہا جائے کہ پہلی حدیث میں قراءت سے مراد سورہء فاتحہ کے سوا کوئی دوسری سورۃ ہے اور سورہء فاتحہ اس سے مستثنٰی ہے؟

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قرآن و حدیث سے احکام کے مستنبط کرنے میں اس قسم کی بہت سی دشواریاں پیش آتی ہیں ، اب اک صورت تو یہ ہے کہ ہم اپنی فہم و بصیرت پر اعتماد کرکے اس قسم کے معاملات میں خود کوئی فیصلہ کرلیں اور عمل کریں ، اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات میں ازخود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے یہ دیکھیں کہ قرآن و سنت کے ان ارشادات سے ہمارے جلیل القدر اسلاف نے کیا سمجھا ہے؟ ان کی فہم و بصیرت پر اعتماد کریں ، اور انہوں نے جوکچھ سمجھا ہے اس کے مطابق عمل کریں،

اگر انصاف اور حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو ہمارے خیال کے مطابق اس بات میں دورائے نہیں ہوسکتیں کہ ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت خاصی خطرناک ہے، اور دوسری صورت بہت محتاط ، یہ صرف تواضح اور کسر نفسی ہی نہیں ، اک ناقابل انکار حقیقت ہے ، کہ علم و فہم ، ذکاوت و حافظہ و دیانت، تقوٰی اور پرہیزگاری، ہر اعتبار سے ہم اسقدر تہی دست ہیں کہ قرون اولٰی کے علماء سے ہمیں کوئی نسبت نہیں،پھر جس مبارک ماحول میں قرآن کریم نازل ہوا تھا ،قرون اولٰی کے علما اس سے بھی قریب ہیں، اور اس قرب کی بناء پر انکے لئے قرآن و سنت کی مراد کو سمجھنا زیادہ آسان ہے ، اسکے برخلاف ہم عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے عرصہ بعد پیدہ ہوئے ہیں کہ ہمارے لئے قرآن و حدیث کا مکمل پس منظر، اسکے نزول کے ماحول، اس زمانے کے طرز معاشرت اور طرز گفتگو کا ہوبہو اور بعینہی تصور بڑا مشکل ہے، حالانکہ کسی کی بات کو سمجھنے کے لئے ان تمام باتوں کی پوری واقفیت انتہائی ضروری ہے،

ان تمام باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے اگر ہم اپنی فہم پر اعتماد کرنے کی بجائے قرآن و سنت کے مختلف التعبیر پیچیدہ احکام میں اس مطلب کو اختیار کرلیں جو ہمارے اسلاف میں سے کسی عالم نے سمجھا ہے ، تو کہاجائے گا کہ ہم نے فلاں عالم کی تقلید کی ہے۔

یہ ہے تقلید کی حقیقت ، اگر میں اپنے مافی الضمیر کو صحیح سے سمجھا سکا ہوں تو یہ بات آپ پر واضح ہوگئی ہوگی کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید صرف اس موقع پر کی جاتی ہے جہاں قرآن و سنت سے کسی حکم کے سمجھنے میں کوئی دشواری ہو، خواہ اس بناء پر کہ قرآن و سنت کی عبارت کے ایک سے زیادہ معنی نکل سکتے ہوں، خواہ اس بناء پر کہ اس میں کوئی اجمال ہو، یا اس بناء پر کہ اس مسئلے میں دلائل متعارض ہوں، چنانچہ قرآن و سنت کے جو احکام قطعی ہیں ، یا جن میں کوئی اجمال و ابہام، تعارض یا اسی قسم کی کوئی الجھن نہیں ہے وہاں کسی امام و مجتہد کی تقلید کی کوئی ضرورت نہیں، چنانچہ مشہور حنفی عالم علامہ عبدالغنی نابلسی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں:-

"فالامر المتفق علیہ المعلوم من الدین بالضرورۃ لا یحتاج الی التقلید فیہ لاحد الاربعۃ کفر ضیۃ الصلوٰۃ والصوم والزکوٰۃ والحج و نحو ھاوحرمۃ الزنا واللواطۃ و شرب الخمر والقتل والسرف والغصب وما اشبہ ذلک والامر المختلف فیہ ھوالذی یحتاج الی التقلید فیہ"
(خلاصۃ التحقیق فی حکم التقلید و التلفیق، صفحہ 4، مطبوعہ مکتبۃالیشیق، استنبول)

"پس وہ متفقہ مسائل جن کا دین میں ہونا بداہتہً معلوم ہے، ام میں ائمہ اربعہ میں سے کسی کی تقلید کی ضرورت نہیں،
مثلاً نماز،روزے، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کی فرضیت اور زنا، لواطت،شراب نوشی، قتل،چوری اور غصب وغیرہ کی حرمت ، 
دراصل تقلید کی ضرورت ان مسائل میں پڑتی ہے جن میں علماء کا اختلاف رہا ہو"

اور علامہ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :-
"واما الاحکام الشرعیۃ فضربان: احد ھما یعلم ضرورۃ من دین الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کالصوات الخمس والزکوٰۃ وصوم شھر رمضان والحج و تحریم الزنا و شرب الخمر و مااشبہ ذلک،فھذالایجوز التقلید فیہ لان الناس کلھم یشترکون فی ادراکہ والعلم بہ، فلامنی للتقلید فیہ، وضرب اٰخر لایعلم الا بالنظر و الاستدلال کفروع العبادات و المعاملات و الفروج والمناکحات و غیر ذلک من الاحکام فھذایسوغ فیہ تقلید بدلیل قول اللہ تعالٰی "فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون" ولاء نالو منعنا التقلید فی ھذہ المسائل التی ھی من فروغ الدین لاحتاج کل احد ان یتحلم ذلک وفی ایجاب ذلک قطع عن المعایش وھلاک الحرث والماشیۃ فوجب ان یسقط"
(الفقیہ والمتفقہ،للخطیب البغدادی رحمہ اللہ،جلد2،صفحہ27،28،مطبوعہ دارالافتا،سعودیہ ریاض سن 1389ھ)

"اور شرعی احکام کی دوقسمیں ہیں، اک وہ احکام ہیں جن کا جزو دین ہونا بداہۃً ثابت ہے ، مثلاً پانچ نمازیں ، زکوٰۃ ۔۔۔۔ رمضان کے روزے،حج ، زنا، شراب نوشی کی حرمت اور اسی جیسے دوسرے احکام، تو اس قسم میں تقلید جائز نہیں، کیونکہ ان چیزوں کا علم تمام لوگوں کو ہوتا ہی ہے ، لہٰزہ اس میں تقلید کے کوئی معنی نہیں اور دوسری قسم وہ ہے جس کا علم فکر و نظر اور استدلال کے بغیر نہیں ہوسکتا، جیسے عبادات و معاملات اور شادی بیاہ کے فروعی مسائل، اس قسم میں تقلید درست ہے، کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے "فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون" ، نیز اس لئے کہ اگر ہم دین کے ان فروعی مسائل میں تقلید ممنوع کردیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر شخص باقاعدہ علوم دین کی تحصیل میں لگ جائے ، اور لوگوں پر اس کو واجب کرنے سے زندگی کی تمام ضروریات برداب ہوجائیں گی اور کھیتیوں اور مویشیوں کی تباہی لازم آئے گی، لہٰزہ ایسا حکم نہیں دیا جاسکتا"۔

اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں :-

"مسائل تین قسم کے ہیں، اول و جن میں نصوص متعارض ہیں، 
دوم وہ جن میں نصوص متعارض نہیں مگر وجوہ و معانی متعددہ کو محتمل ہوں ، گو اختلاف نظر سے کوئی معنی قریب کوئی بعید معلوم ہوتے ہوں، 
سوم وہ جن میں تعارض بھی نہ ہو اور ان میں اک ہی معنی ہوسکتے ہیں،
پس قسم اول میں رفع تعارض کے لئے مجتہد کو اجتہاد کی اور غیر مجتہد کو تقلید کی ضرورت ہوگی،قسم ثانی ظنی الدلالۃ کہلاتی ہے، اس میں تعیین احد الاحتمالات کے لئے اجتہاد و تقلید کی حاجت ہوگی قسم ثالث قطعی الدلالت کہلاتی ہے اس میں ہم بھی نہ اجتہاد کو جائز کہتے ہیں نہ اس کی تقلید کو"
(الاقتصادفی التقلید والاجتہاد،صفحہ 34، مطبوعہ دہلی بہ جواب شبہ سیزدہم)


مزکورہ بالا گزارشات سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اسے بزات خود واجب الاطاعت سمجھ کر اتباع کی جارہی ہے، یا اسے شارع (شریعت بنانے والا ، قانون ساز) کا درجہ دی کر اس کی ہر بات کو واجب الاتباع سمجھا جارہا ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پیروی تو قرآن و سنت کی مقصود ہے، لیکن قرآن و سنت کی مراد کو سمجھنے کے لئے بحیثیت شارح قانون کی ان بیان کی ہوئی تشریح و تعبیر پر اعتماد کیا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت کے قطعی احکام میں کسی امام یا مجتہد کی تقلید ضروری نہیں سمجھی گئی، کیونکہ وہاں اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا اصل مقصد اس کے بغیر بآسانی حاصل ہوجاتا ہے۔

یہ بات (کہ جس امام کی تقلید کی جائے اسے صرف شارح قرار دیا جائے بزات خود اسے واجب الاتباع نہ سمجھا جائے) خود اصطلاح "تقلید" کے مفہوم میں داخل ہے، چنانچہ علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ اور علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ "تقلید" کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں :-
"التقلید العمل بقول من لیس قولہ احدی الحجج بلا حجۃ منھا"
(تیسرا التحریر، لاءمیربادشاہ البخاری رحمہ اللہ ، جلد4،صفحہ246،مطبوعہ مصر1351ھ و فتح الغفارشرح المنار لابن نجیم رحمہ اللہ، جلد2،صفحہ3، مطبوعہ مصر1355ھ)
"تقلید کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کا قول مآخز شریعت میں سے نہیں ہے اسکے قول پر دلیل کا مطالبہ کئے بغیر عمل کرلینا"

اس تعریف نے واضح کردیا کہ مقلد اپنے امام کے قول کو مآخز شریعت نہیں سمجھتا، کیونکہ مآخز شریعت صرف قرآن و سنت (اور انہی کے ذیل میں اجماع و قیاس) ہیں،البتہ یہ سمجھ کر اس کے قول پر عمل کرتا ہے کہ چونکہ وہ قرآن و سنت کے علوم میں پوری بصیرت کا حامل ہے ، اسلئے اس نے قرآن و سنت سے جو مطلب سمجھا ہے وہ میرے لئے زیادہ قابل اعتماد ہے۔

اب آپ بہ نظر انصاف غور فرمائیے کہ اس عمل میں کونسی بات ایسی ہے جسے "گناہ" یا "شرک" کہا جاسکے؟

اگر کوئی شخص کسی امام کو شارع (قانون ساز) یا بزات خود واجب الاطاعت قرار دیتا ہو تو بلاشبہ اس عمل کو شرک کہا جاسکتا ہے ، لیکن کسی کو شارح قانون قرار دے کر اپنے مقابلے میں اس کی فہم و بصیرت پر اعتماد کرنا تو افلاس علم کے اس دور میں اس قدر ناگزیر ہے ، کہ اس سے کوئی مفر نہیں ہے ۔



اسکی مثال یوں سمجھئیے کہ پاکستان میں جو قانون نافز ہے وہ حکومت نے کتابی شکل میں مدون اور مرتب کرکے شایع کر رکھا ہے ۔ لیکن ملک کے کروڑوں عوام میں سے کتنے آدمی ہیں جو براہ راست قانون کی عبارتیں دیکھ دیکھ کر اس پر عمل کرسکتے ہوں؟ بے پڑھے لکھے افراد کا تو کچھ کہنا ہی نہیں ہے، ملک کے وہ بہترین تعلیم یافتہ افراد جنہوں نے قانون کا باقاعدہ علم حاصل نہیں کیا ، اعلٰی درجہ کی انگریزی ناننے کے باوجود جراءت نہیں کرتے کہ کسی قانونی مسئلہ میں براہ راست قانون کی کتاب دیکھیں، اور اس پر عمل کریں، اس کے بجائے جب انہیں کوئی قانون سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ کسی ماہر وکیل کو تلاش کرکے اس کے قول پر عمل کرتے ہیں، کیا کوئی صحیح العقل انسان اس طرز عمل کا یہ مطلب سمجھ سکتا ہے کہ انہوں نے اس وکیل کو قانون سازی کا اختیار دے دیا ہے اور وہ ملکی قانون کی بجائے وکلاء کو اپنا حاکم تسلیم کرنے لگے ہیں؟
بلکل یہی معاملہ قرآن و سنت کے احکام کا ہے ، کہ ان کی تشریح و تفسیر کے لئے ائمہ مجتہدین کی طرف رجوع کرنے اور ان پر اعتماد کرنے کا نام "تقلید" ہے ، لہٰزہ تقلید کرنے والے کو یہ الزام نہیں دیا جاسکتا کہ وہ قرآن و سنت کے بجائے ائمہ مجتہدین کا اتباع کر رہا ہے۔

تقلید کی دو صورتیں

پھر اس تقلید کی بھی دو صورتیں ہیں ، اک تو یہ کہ تقلید کے لئے کسی خاص امام، مجتہد کو معین نہ کیا جائے، بلکہ اگر اک مسئلہ میں اک عالم کا مسلک اختیار کیا گیا ہے تو دوسرے مسئلہ میں کسی دوسرے عالم کی رائے قبول کرلی جائے اس کو "تقلید مطلق" یا "تقلید عام" یا " تقلید غیر شخصی" کہتے ہیں،
اور دوسری صورت یہ ہے کہ تقلید کے لئے کسی ایک مجتہد عالم کو اختیار کیا جائے، اور ہر اک مسئلہ میں اسی کا قول اختیار کیا جائے، اسے "تقلید شخصی" کہا جاتا ہے۔
تقلید کی ان دونوں وسموں کی حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اک شخص براہ راست قرآن و سنت سے احکام مستنبط کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ جس مجتہد کو قرآن و سنت کے علوم کا ماہر سمجھتا ہے اس کی فہم و بصیرت اور اس کے تفقہ پر اعتماد کرکے اس کی تشریحات کے مطابق عمل کرتا ہے، اور یہ چیز ہے جس کا جواز بلکہ وجوب قرآن و سنت کے بہت سے دلائل سے ثابت ہے:-


قرآن کریم اور تقلید

تقلید کی جو حقیقت اوپر بیان کی گئی ہے اس کی اصولی ہدایتیں خود قرآن کریم میں موجود ہیں:-

پہلی آیت
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ
النساء، سورۃ نمبر 4،آیت نمبر 59
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو، اور اپنے آپ میں سے "اولالامر" کی اطاعت کرو۔

"اولوالامر" کی تفسیر میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا کہ اس سے مراد مسلمان حکام ہیں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے فقہاء مراد ہیں، یہ دوسری تفسیر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ تفسیر معاویہ بن صالح عن علی بن ابی طلحہ کے طریق سے مروی ہے،(ابن جریر رحمہ اللہ۔جلد5،صفحہ 88) جو ان کی روایات کا قوی ترین طریق ہے(دیکھئیے الاتقان نوع نمبر 80)، تفسیر ابن کبیر، جلد3،صفحہ334) حضرت مجاہد رحمہ اللہ، حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ ، حضرت عطاء بن السائب رحمہ اللہ ، حضرت حسن بصری رحمہ اللہ ، حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ اور دوسرے بہت سے مفسرین سے منقول ہے، اور امام رازی رحمہ اللہ نے اسی تفسیر کو متعدد دلائل کے زریعہ ترجیح دیتے ہوئے لکھا ہے :-
"اس آیت میں لفظ " اولواالامر " سے علماء مراد لینا اولٰی ہے "
اور امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں تفسیروں میں کوئی تعارض نہیں، بلکہ دونوں مراد ہیں ، اور مطلب یہ ہے کہ حکام کی اطاعت سیاسی معاملات میں کی جائے ، اور علماء و فقہا کی مسائل شریعت کے باب میں (احکام القرآن للجصاص رحمہ اللہ، جلد 2،صفحہ256،باب فی طاعۃ اولی الامر) اور علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امراء کی اطاعت کا نتیجہ بھی بالآخر علماء ہی کی اطاعت ہے، کیونکہ امراء بھی شرعی معاملات میں علماء کی اطاعت کے پابند ہیں، "فطاعۃ الامراء تبح لطاعۃ العلماء"(اعلام الموقعین لابن القیم رحمہ اللہ، جلد1،صفحہ 7)
بحرحال اس تفسیر کے مطابق آیت میں مسلمانوں سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں اور ان علماء و فقہاء کی اطاعت کریں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے شارح ہیں ، اور اسی اطاعت کا اصطلاحی نام "تقلید" ہے، رہا اسی آیت کا اگلہ جملہ جس میں ارشاد ہے کہ :-

فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ،
"پس اگر کسی معاملہ میں تمہارا باہم اختلاف ہوجائے تو اس معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا دو اگر اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو"

سو یہ اس تفسیر کے مطابق مستقل جملہ ہے، جس میں مجتہدین کو خطاب کیا گیا ہے ، چنانچہ امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ "اولوالامر" کی تفسیر علماء سے کرنے کے تائید میں لکھتے ہیں:-

"وقولہ تعالٰی عقیب ذلک فان تنازعتم فی شی ء فردوہ الی اللہ والرسول ، یدل علٰی ان اولی الامرھم الفقھا لانہ امر سائر الناس بطاعتھم ثم قال فان تنازعتم الخ فامراولی الامر برد المتنازع فیہ الی کتاب اللہ و سنۃ نبیتہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اذکانت العامۃ و من لیس من اھل العلم لیست ھذہ وجوہ دلائلھا علٰی احکام الحوادث فثبت انہ خطاب للعلماء۔"

"اور اولالامر کی اطاعت کا حکم دینے کا حکم دینے کے فوراً بعد اللہ تعالٰی کا یہ فرمانا کہ "اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان اختلاف ہوتو اس کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹادو" اس بات کی دلیل ہے کہ "اولالامر" سے مراد فقہاء ہیں، کیونکہ اللہ تعالٰی نے تمام لوگوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا، پھر فان تنازعتم الخ فرماکر "اولوالامر" کو حکم دیا کہ جس معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہو اسے اللہ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف لوٹا دو ، یہ حکم فقہاء ہی کو ہوسکتا ہے ، کیونکہ عوام الناس اور غیر اہل علم کا یہ مقام نہیں ہے ،اس لئے کہ وہ اس بات سے واقف نہیں ہوتے کہ اللہ کی کتاب اور سنت کی طرف کسی معاملے کو لوٹانے کا کیا طریقہ ہے ؟ اور نہ انہیں نت نئے مسائل مستنبط کرنے کے لئے دلائل کے طریقوں کا علم ہوتا ہے ، لہٰزہ ثابت ہوگیا کہ یہ خطاب علماء کو ہے۔(احکام القرآن ،جلد،2،صفحہ257)




مشہور اہل حدیث عالم حضرت علامہ نواب صدیق حسن خانصاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی تفسیر میں اعتراف فرمایا ہے کہ "فان تنازعتم ۔۔الخ۔۔" کا خطاب مجتہدین کو ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:-

"والظاھر انہ خطاب مستقل مستانف موجہ للمجتھدین۔"
"اور ظاہر ہے کہ یہ مستقل خطاب ہے جس میں روئے سخن مجتہدین کی طرف ہے"
(تفسیر فتح البیان،جلد2،صفحہ308،مطبعۃ العاصمۃ،قاہرہ)

لہٰزہ اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ جولوگ اجتہاد کی اہلیت نہیں رکھتے ، وہ مختلف فیہ مسائل میں براہ راست قرآن و حدیث سے رجوع کر کے خود فیصلہ کریں بلکہ پہلے جملے میں خطاب ان لوگوں کو ہےجو قرآن و سنت سے براہ راست احکام مستنبط نہیں کرسکتے، اور ان کا فریضہ بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں، جس کا طریقہ یہ ہے کہ "اولوالامر" یعنی فقہاء سے مسائل پوچھیں،اور ان پر عمل کریں، اور دوسرے جملے میں خطاب مجتہدین کو ہے کہ وہ تنازعہ کے موقعہ پر کتاب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا کریں، اور اپنی اجتہادی بصیرت کو کام میں لاکر قرآن و سنت سے احکام نکالا کریں، 


دوسری آیت

قرآن کریم میں ارشاد ہے:-
وَ اِذَا جَآءَہُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ ؕ
النساء،سورۃ نمبر 4،آیتن نمبر 83
"اور جب ان (عوام الناس) کے پاس امن یا خوف کی کوئی بات پہنچتی ہے تو یہ اس کی اشاعت کردیتے ہیں، اور اگر یہ معاملے کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یا اپنے "اولوالامر" کی طرف لوٹادیتے ہیں، تو ان میں سے جو لوگ اسکے استنباط کے اہل ہیں وہ (اسکی حقیقت) کو خوب معلوم کرلیتے"
(اس آیت کا پسمنظر یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے منافقین جنگ و امن کے بارے میں نت نئی افواہیں اڑاتے رہتے تھے، بعض سادہ لوح مسلمان ان افواہوں پر یقین کرکے انہیں آگے بڑھادیتے، اور اس سے چہر میں بدمزگی اور بدامنی پیدہ ہوجاتی تھی۔ آیت مزکورہ نے اہل ایمان کو اس طرز عمل سے منع کرکے انہیں اس بات کی تلقین فرمائی کہ جنگ و امن کے بارے میں جو کوئی بات ان تک پہنچے وہ اس کے مطابق از خود کوئی عمل کرنے کی بجائے اسے "اولوالامر" تک پہنچادیں، ان میں سے جو حضرات تحقیق و استنباط کے اہل ہیں، وہ معاملے کی تہہ تک پینچ کر حقیقت معلوم کرلیں گے اور اس سے باخبر کردیں گے، لہٰزہ ان کا کام ان اطلاعات پر ازخود کوئی ایکشن لینا نہیں، بلکہ ان باتوں سے "اولوالامر" کو مطلع کرکے ان کے احکام کی تعمیل ہے)

یہ آیت اگرچہ اک خاص معاملے میں نازل ہوئی ہے، لیکن جیسا کہ اصول تفسیر اور اصول فقہ کا مسلم قاعدہ ہے،آیات سے احکام و مسائل مستنبط کرنے کے لئے شان نزول کے خصوصی حالات کے بجائے آیت کے عمومی الفاظ کا اعتبار ہوتا ہے،اس لئے اس آیت سے یہ اصولی ہدایت مل رہی ہے کہ جولوگ تحقیق و نظر کی صلاحیت نہیں رکھتے ان کو اہل استنباط کی طرف رجوع کرنا چاہیئے، اور وہ اپنی اجتہادی بصیرت کو کام میں لاکر جو راہ عمل متعین کریں اس پر عمل کرنا چاہیئے، اور اسی کانام تقلید ہے، چنانچہ امام رازی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت تحریر فرماتے ہیں:-

"فثبت ان الا استنباط حجۃ، والقیاس اما استنباط اوداخل فیہ، فوجب ان یکون حجۃ اذاثبت ھذا فنقول: الاٰیۃ دالۃ علٰی امور حدھا ان فی احکام الحوادث مالا یعرف بالنص بل بالاستنباط و ثانیھا ان الاستنباط حجۃ، وثالثھا ان العامی یجب علیہ تقلید العلماء فی احکام الحوادث" 
"پس ثابت ہوا کہ استنباط حجت ہے، اور قیاس یا تو بزات خود استنباط ہوتا ہے یا اس میں داخل ہوتا ہے، لہٰزہ وہ بھی حجت ہوا، جب یہ بات طے ہوگئی تو اب ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت چند امور کی دلیل ہے، ایک یہ کہ نت نئے پیش آنے والے مسائل میں بعض امور ایسے ہوتے ہیں جو نص سے (صراحۃً) معلوم نہیں ہوتے، بلکہ ان کا حکم معلوم کرنے کے لئے استنباط کی ضرورت پڑتی ہے، دوسرے یہ کہ استنباط حجت ہے، اور تیسرے یہ کہ عام آدمی پر واجب ہے کہ وہ پیش آنے والے ،مسائل واحکام کے بارے میں علماء کی تقلید کرے" (تفسیرکبیر،جلد3،صفحہ272)

"بعض حضرات نے اس استدلال پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت جنگ کے مخصوص حالات پر مشتمل ہے۔ لہٰزہ زمانہ امن کے حالات کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا،(تحریک آزادی فکر از مولانا محمد اسمٰعیل سلفی،صفحہ31) لیکن اس اعتراض کا جواب ہم شروع میں دے چکے ہیں، کہ اعتبار آیت کے عام الفاظ کا ہوتا ہے نہ کہ شان نزول کے مخصوص حالات کا، چنانچہ امام رازی رحمۃ اللہ اس اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں:-

"ان اقولہ واذاجاء ھم امرین اوالخوف عام فی کل مایتعلق بالحروب و فیما یتعلق بسائر الوقائع الشرعیہ، لان الامن ولخوف حاصل فی کل ما یتعلق بباب التکلیفم فثبت انہ لیس فی الٰیتہ مایوجب تخصیصھا بامر الحروب،"
(تفسیر کبیر،جلد3،صفحہ273)
"اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد کہ "جب ان کے سامنے امن یا خوف کا کوئی معاملہ آتا ہو۔۔۔۔الخ۔۔۔" بلکل عام ہے جسمیں جنگ کے حالات بھی داخل ہیں اور تمام شرعی مسائل بھی،اسلئے کہ امن اور خوف ایسی چیزیں ہیں کہ تکلیفات شرعیہ کا کوئی باب ان سے باہر نہیں، لہٰزہ ثابت ہوا کہ آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جواسے صرف جنگ کے حالات سے مخصوص کردے"

امام ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس اعتراض کی یہی جواب نہایت تفصیل کے ساتھ دیاہے،اور اس بارے میں ضمنی شبہات کی بھی شبہات کی بھی تردید فرمائی ہے،(احکام القرآن للجصاص،جلد2،صفحہ263،باب طاعۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم)۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور اہل حدیث عالم نواب صدیق حسن خانصاحب نے اسی آیت سے قیاس کے جواز پر استدلال کرتے ہوئے لکھاہے:-
"فی الاٰیۃ اشارۃ الٰی جواز القیاس ، وان من العم۔۔۔۔۔۔مایدرک بلاسباط(تفسیر فتح البیان،ازنواب صدیق حسن خاں صاحب،جلد2،صفحہ230)
اگر آیت سے "زمانہ امن" کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں ملتی تو قیاس کے جواز پر اس سے استدلال کیسے درست ہوگیا؟


تیسری آیت

قرآن کریم کا ارشاد ہے:-
فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ
التوبہ،سورہ نمبر9،آیت122
"پس کیوں نہ نکل پڑا ان کی ہر بڑی جماعت میں سے اک گروہ تاکہ یہ لوگ دین میں تفقہ حاصل کریں اور تاکہ لوٹنے کے بعد اپنی قوم کو ہوشیار کریں شاید وہ لوگ (اللہ کی نافرمانی سے) بچیں"

اس آیت میں اس بات کی تائید کی گئی ہے کہ مسلمانوں میں تمام افراد کو جہاد وغیرہ کے کاموں میں مشغول نہ ہوجانا چاھئیے، بلکہ ان میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو اپنے شب و روز "تفقہ"(دین کی سمجھ) حاصل کرنے کے لئے وقف کردے اور اپنا اوڑھنا بچھونا علم کو بنائے، تاکہ یہ جماعت ان لوگوں کو احکام شریعت بتلائے جو اپنے آپ کو تحصیل علم کے لئے فارغ نہیں کرسکے۔
لہٰزہ اس آیت نے علم کے لئے مخصوص ہوجانے والی جماعت پر یہ لازم کیا ہے کہ وہ دوسروں کو احکام شریعت سے باخبر کرے، اور دوسروں کے لئے اس بات کو ضروری قرار دیا ہے کہ وہ ان کے بتلائے ہوئے احکام پر عمل کریں، اور اسطرح اللہ تعالٰی کی نافرمانی سے محفوظ رہیں، اور اسی کا نام تقلید ہے، چنانچہ امام ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ علیہ اس آیت پر گفتگو کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:-


فا وجب الحزربانذا ھم و الزام المذرین قبول قولھم
(احکام القرآن للجصاص،جلد2،صفحہ263،باب طاعۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم)
"اس آیت میں اللہ تعالٰی نے عام لوگوں پر واجب کیا ہے کہ جب علماء ان کو (احکام شریعت بتاکر) ہوشیار کریں تو وہ (اللہ کی نافرمانی سے) بچیں، اور علماء کی بات مانیں"

چوتھی آیت

قرآن کریم کا ارشاد ہے:-
فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ
النحل،43،اور الانبیاء7)
"اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔۔۔"

اس آیت میں یہ اصولی ہدایت دیدی گئی ہے کہ جو لوگ علم و فن کے ماہر نہ ہوں انہیں چاہیئے کہ وہ اس علم و فن کے ماہرین سے پوچھ پوچھ کر عمل کرلیاکریں، اور یہی چیز تقلید کہلاتی ہے، چنانچہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :-

واستدل بھا ایضا علٰی وجوب لمراجعۃ للعلماء فیما لا یعلم وفی الاکیل للجلال ۔۔۔۔ السیوطی انہ استدلال بھا علٰی جواز تقلید العامی فی الفروع
(روح المعانی ،جلد14،صفحہ 148،سورہ نحل)
"اور اس آیت سے اس بات پر بھی استدلال کیا گیا ہے کہ جس چیز کا علم خود نہ ہو اس میں علماء سے رجوع کتنا واجب ہے۔ اور علامہ جلال الدین چیوطی رحمہ اللہ اکلیل میں لکھتے ہیں کہ اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ عام آدمیوں کے لئے فروعی مسائل میں تقلید جائز ہے"اس پر بعض حضرات کو یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ یہ آیت اک خاص موضوع سے متعلق ہے، اور وہ یہ کہ مشرکین مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالے کا انکار کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس کسی فرشتے کو رسول بناکر کیوں نہیں بھیجا گیا؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جس کے پورے الفاظ یہ ہیں :-
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ
الانبیا،7
اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی مرد ہی رسول بناکر بھیجے ہیں جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے ، پس اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو" اہل الزکر سے پوچھ لو"

"اہلالزکر " سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک علماء اہل کتاب ہیں، بعض کے نزدیک وہ اہل کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسلمان ہوگئے تھے، اور بعض کے نزدیک اہل قرآن یعنی مسلمان، اور مطلب یہ ہے کہ یہ تمام حضرات اس حقیقت سے واقف ہیں کہ پچھلے تمام انبیاء علیھم السلام بشر تھے، ان میں سے کوئی بھی فرشتہ نہ تھا، لہٰزہ آیت کا سیاق و سباق تقلید و اجتہاد کے مفہوم سے نہیں ہے،
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت دلالۃ النص کے طور پر تقلید کے مفہوم پر دلالت کررہی ہے، "اہل الزکر" سے خواہ کوئی مراد ہو، لیکن ان کی طرف رجوع کرنے کا حکم ذاتی ناواقفیت کی بناء پر دیا گیا ہے، اور یہ بات اسی وقت درست ہوسکتی ہے، جب یہ اصول مان لیا جائے کہ "ہر ناواقف کو واقف کی طرف رجوع کرنا چاھئیے" یہی وہ اصول ہے جس کی طرف یہ آیت رہنمائی کررہی ہے، اور اسی سے تقلید پر استدلال کیا جارہا ہے، اور یہ بات ہم پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ اصول تفسیر اور اصول فقہ کا یہ مسلم قاعدہ ہے"العبرۃ بعموم اللفاظ لالخصوص المورد" یعنی اعتبار آیت کے عمومی الفاظ کا ہوتا ہے نہ کہ خاص اس صورت کا جس کے لئے آیت نازل ہوئی ہو، لہٰزہ آیت کا نزول اگرچہ خاص مشرکین مکہ کے جواب میں ہوا ہے، لیکن چونکہ اس کے الفاظ عام ہیں۔ اسلئے اس سے یہ اصول بلاشبہ ثابت ہوتا ہے کہ جولوگ خود علم نہ رکھتے ہوں انہیں اہل علم کی طرف رجوع کرنا چاہیئے اور یہی تقلید کا حاصل ہے، چنانچہ خطیب بغداد رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:-

"امامن یوغ لہ التقلید فھو العامی الذی لایعرف طوق الاحکام الشرعیۃ ، فیجوزلہ ان یقلد عالما و ویعمل بقولہ، قال اللہ تعالٰی "فاسئلوا اھل الزکر ان کنتم لاتعلمون "،
(الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی،جلد2،صفحہ68،مطبوع� � دارالافتاء سعودیہ ریاض،1389ھ)
"رہا یہ مسئلہ کہ تقلید کس کے لئے جائز ہے، سو یہ وہ عامی شخص ہے جو احکام شریعہ کے طریقے نہیں جانتا پس اس کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی عالم کی تقلید کرے اور اس کے قول پر عمل کرے، اسلئے اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے"فاسئلوا اھل الزکر۔۔ "

اسکے بعد خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اپنی سند سے حضرت عمو بن قیس رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت بالا میں اہل الزکر سے مراد اہل علم ہیں،


تقلید اور حدیث

قرآن کریم کی طرح بہت سی احادیث سے بھی تقلید کا جواز ثابت ہوتا ہے، ان میں سے چند درج زیل ہیں،

(1)
عن حذیفہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انی لاادری مابقائی فیکم ، فاقتدوا باللذین من بعدی ابی بکر و عمر ۔
(رواہ الترمذی و ابن ماجہ و احمد)
(متقاۃ المفاتیح،جلد5،صفحہ549،باب مناقب ابی بکر و عمر رضوان اللہ علیھم اجمعین)
"حضرت حزیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں ، میں کتنا عرصہ تمہارے درمیان رہوں گا؟ پس تم میرے بعد دو شخصوں کی اقتداء کرنا، اک ابوبکررضی اللہ عنہ،اور دوسرے عمر رضی اللہ عنہ"

یہاں یہ بات بطور خاص قابل غور ہے کہ حدیث میں الفاظ "اقتداء" استعمال کیا گیا ہے، جو انتظامی امور میں کسی کی پیروی کے لئے استعمال ہوتا ہے، عربی لغت کے مشہور عالم ابن منظور رحمہ اللہ لکھتے ہیں: القدوۃ و القدوۃ ماتسننت بہ" القدوۃا الاسوۃ" (السان العربج،20،صفحہ31،مادہ "قدا") ("قدوہ" کے معنی ہیں "اسوہ"یعنی نمونہ) قرآن کریم میں بھی یہ الفاظ دینی امور میں انبیاء علیہم السلام اور صلحاء کی پیروی کے لئے استعمال ہوا ہے، ارشاد ہے:-
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقۡتَدِہۡ
الانعام، سورۃ نمبر6،آیت نمبر90
"یہی لوگ ہیں جنکو اللہ نے ہدایت دی ہے، پس تم ان کی ہدایت کی اقتداء کرو"

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کے واقعہ میں ہے کہ :-

"یقتدی ابوبکر بصلوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و الناس مقتدون بصلوٰۃ ابی بکر"
(صحیح بخاری،باب الرجل یاتم بالامام،جلد1،صفحہ99)
"حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتدا کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کررہے تھے"

اور مسند احمد میں حضرت ابو وائل رحمہ اللہ کی روایت ہے :-
جلست الٰی شیبۃ بن عثمان رضی اللہ عنہ، فقال جلس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فی مجلسک ھذا ، فقال لقد ھمت ان لا ادع فی الکعبۃ صفراء ولا بیضاء الاقسمتمھما بین الناس ، قال قلت؛ لیس ذلک ، قد سبقک صاحباک لم یغعلا ذلک ، فقال ھما المرٰان یقتدٰی بھماء
(مسند احمد ،جلد3،صفحہ 410،مسند شیبۃ بن عثمان رضٰ اللہ عنہ)
"میں شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا ، انہوں نے کہا کہ (ایک دن) حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی جگہ بیٹھے تھے جہاں تم بیٹھے ہو، وہ فرمانے لگے کہ میرا ارادہ ہوتا ہے کہ کعبہ میں جتنا سونا چاندی ہوتا ہے وہ سب لوگوں کے درمیان تقسیم کردوں، شیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ اس کا حق آپ کو نہیں، کیونکہ آپ کے دونوں پیش رو صاحبان (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) نے ایسا نہیں کیا، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ دونوں حضرات واقعی ایسے ہیں کہ ان کی اقتداء کی جانی چاہیئے"


نیز مسند احمد میں ہی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں ارشاد فرمایا کہ :-
"ابھی تمہاری مجلس میں اک جنتی شخص داخل ہوگا" 
چنانچہ اس کے بعد ایک انصاری صحابی داخل ہوئے، دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا، اور تیسرے دن بھی، اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اک دن انہی انصاری صحابی کے پاس پہنچ گئے، اور رات کو ان کے ہاں رہے، خیال یہ تھا کہ وہ بہت عبادت کرتے ہوں*گے، مگر دیکھا کہ انہوں نے صرف اتنا کیا کہ سوتے وقت کچھ اذکار پڑھے اور پھر فجر تک سوتے رہے، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:-
"فاردت ان اٰوی الیک لا نظر ماعملک، فاقتدی بہ فلم اول تعلم کثیر عمل"(حضرت عبداللہ بن عمرو رضٰ اللہ عنہ کے جواب میں انصاری صحابی رضٰ اللہ عنہ نے بتایا کہ عمل تو کوئی خاص نہیں کرتا البتہ میرے دل میں کسی مسلمان کی طرف سے کھوٹ نہیں ہے،نہ میں کسی پر حسد کرتا ہوں ، اخرجہ احمد من طریق عبدالرزاق ثنا معمر عن الزہری اخبرنا انس رضٰ اللہ عنہ وہواسناد صحیح )
مسند احمد ،جلد،3،صفحہ166،مسندات انس رضٰ اللہ عنہ
"میں تو اس ارادے سے تمہارے پاس رات گزارنے آیا تھا کہ تمہارا عمل دیکھوں اور اس کی "اقتداء" کروں"

ان تمام مقامات پر ""اقتداء"" دینی امور میں کسی کی اتباع اور پیروی کے لئے آیا ہے، خاص طور پر پہلی دو احادیث میں تو اس لفظ کا استعمال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے اسی معنی میں

*ہوا ہے، لہٰزہ مزکورہ بالا حدیث کا اصل مقصد دینی امور میں حضرت ابوبکر و عمر رضٰ اللہ عنہما کی اقتداء کا حکم دینا ہے، اور اسی کا نام تقلید ہے،

(2)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-
"ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعاً ینتزعہ من العباد، ولکن یقبض العلم یقبض العلماء حتٰی اذالم یبق عالماً اتخذالناس رء وساجھالا، فسئلوا فافتوابغیر علم فضلواواضلوا"
(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب العلم، الفضل الاول، صفحہ33)

"بلاشبہ اللہ تعالٰی علم کو (دنیاسے) اسطرح سے نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں (کے دل) سے سلب کرلے، بلکہ علم کو اسطرح اٹھائے گا۔ کہ علماء کو (اپنے پاس) بلالے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے ، ان سے سوالات کئے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے"

اس حدیث میں واضح طور سے فتوٰی دینا علماء کا کام قرار دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگ ان سے مسائل شرعیہ پوچھیں ، وہ ان کا حکم بتائیں، اور لوگ اس پر عمل کریں، یہی تقلید کا حاصل ہے۔
پھر اس حدیث میں اک اور بات بطور خاص قابل غور ہے، اور وہ یہ کہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے زمانے کی خبر دی جس میں علماء مفقود ہوجائیں گے، اور جاہل قسم کے لوگ فتوے دینے شروع کردیں گے، یہاں سوال یہ ہے کہ اس دور میں احکام شریعت پر عمل کرنے کی سوائے اس کے اور کیا صورت ہوسکتی ہے کہ وہ لوگ گزرے ہوئے علماء کی تقلید کریں، کیونکہ جب زندہ لوگوں میں کوئی عالم نہیں بچا تو نہ کوئی شخص براہ راست قرآن و سنت سے احکام مستنبط کرنے کا اہل رہا، اور نہ کسی زندہ عالم کی طرف رجوع کرنا اس کی قدرت میں ہے، کیونکہ کوئی عالم موجود ہی نہیں،لہٰزہ احکام شریعت پر عمل کرنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں رہتی کہ جو علماء وفات پاچکے ہیں ان کی تصانیف وغیرہ کے زریعے ان کی تقلید کی جائے،
لہٰزہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک علمائے اہل اجتہاد موجود ہوں اس وقت تک ان سے مسائل معلوم کئے جائیں، اور ان کے فتووں پر عمل کیا جائے، اور جب کوئی عالم باقی نہ رہا تو اہل لوگوں کو مجتہد سمجھ کر ان کے فتووں پر عمل کرنے کے بجائے گزشتہ علماء میں سے کسی کی تقلید کی جائے۔

(3)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-

"من افتٰی بغیر علم کان اثمہ علیٰ من افتاہ "
(رواہ ابوداؤد)(مشکوٰۃ المصابیح ،کتابالعلم ،الفضل نالثانی،صفحہ37)
"جوشخص بغیر علم کے فتوٰی دے گا اس کا گناہ فتوٰی دینے والے پر ہوگا "

یہ حدیث بھی تقلید کے جواز پر بڑی واضح دلیل ہے، اسلئے کہ اگر تقلید جائز نہ ہوتی اور کسی کے فتوے پر دلیل کی تحقیق کے بغیر عمل جائز نہ ہوتا تو مزکورہ صورت میں سارا گناہ فتوٰی دینے والے پر ہی کیوں ہوتا ؟ بلکہ جس طرح مفتی کو بغیر علم کے فتوٰی دینے کا گناہ ہوتا اسی طرح سوال کرنے والے کو اس بات کا گناہ ہونا چاھئیے تھا کہ اس نے فتوے کی صحت کی تحقیق کیوں نہیں کی؟ لہٰزہ حدیث بالا نے یہ واضح فرمادیا کہ جو شخص خود عالم نہ ہو اس کا فریضہ صرف اس قدر ہے کہ وہ کسی ایسے شخص سے مسئلہ پوچھ لے جو اس کی معلومات کے مطابق قرآن و سنت کا علم رکھتا ہو، اسکے بعد اگر وہ عالم اسے غلط مسئلہ بتائے گا تو اس کا گناہ پوچھنے والے پر نہیں ہوگا، بلکہ بتانے والے پر ہوگا۔

(4)
حضرت ابراہیم بن عبد الرحمٰن العزری سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-

"یحمل ھذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین و تاویل الجاھلین، "
(رواہ البیھقی فیالمدخل) (مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب العلم،الفصل السانی،صفحہ28)
"ہر آنے والی نسل کے ثقہ لوگ اس علم دین کے حامل ہوں گے جو اس سے غلو کرنے والوں کی تحریف کو باطل پرستوں کے جھوٹے دعووں کو، اور جاہلوں کی تاویلات کو دور کریں گے"

اس حدیث میں " جاہلوں کی تاویلات" کی مزمت کی گئی ہے ، اور بتایا گیا ہے کہ ان تاویلات کی تردید علماء کا فریضہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جولوگ قرآن و سنت کے علوم میں مجتہدانہ بصیرت نہیں رکھتے انہیں اپنی فہم پر اعتماد کرکے احکام قرآن و سنت کی تاویل نہیں کرنی چاھئیے ، بلکہ قرآن و سنت کی صحیح مراد سمجھنے کے لئے اہل علم کی طرف رجوع کرنا چاھئیے، اور اسی کا نام " تقلید" ہے، پھر یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن و سنت میں تاویلات وہی شخص کرسکتا ہے جسے کچھ تھوڑی بہت شد بد ہو، لیکن ایسے شخص کو بھی حدیث میں "جاہل" قرار دیا گیا ہے اور اس کی "تاویل" کی مزمت کی گئی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن و سنت سے احکام و مسائل کے استنباط کے لئے عربی زبان وغیرہ کی معمولی شدبد کافی نہیں،بلکہ اس میں مجتہدانہ بصیرت کی ضرورت ہے۔

(5)
صحیح بخاری میں تعلیقاً اور صحیح مسلم میں مسنداً حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جماعت میں دیر سے آنے لگے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جلدی آنے اور اگلی صفوں میں نماز پڑھنے کی تاکلید فرمائی،اور ساتھ ہی فرمایا :-
"ایتموابی ولیاتم بکم من بعدکم"
(صحیح بخاری،باب الرجل یاتم بالامام ویاتم الناس بالماموم،جلد1،صفحہ99)
"تم مجھے دیکھ دیکھ کر میری اقتداء کرو اور تمہارے بعد آنے والے لوگ تمہیں دیکھ دیکھ کر تمہاری اقتداء کریں"

اس کا اک مطلب تو یہ ہے کہ اگلی صفوں کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں، اور پچھلی صفوں کے لوگ اگلی صف کے لوگوں کو دیکھ کر ان کی اقتداء کریں، اور پچھلی صفوں کے لوگ اگلی صف کے لوگوں کو دیکھ کر ان کی اقتداء کریں، اس کے علاوہ اس کا دوسرا مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جلدی آیا کریں ، تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق نماز کو اچھی طرح دیکھ لیں، کیونکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد جو نسلیں آئیں گی وہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تقلید اور ان کی اتباع کریں گی،چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :-

"وقیل معنا تعلموامنی احکام الشریعۃ، ولیتعلم منکم التابعون بعدکم وکذلک اتباعھم الٰی۔۔۔۔۔انقراض الدنیا،"
(فتح الباری،جلد2،صفحہ171،طبع میریہ،1300ھ)
"بعض حضرات نے اس حدیث کا مطلب یہ بتایا ہے کہ تم مجھ سے احکام شریعت سیکھ لو اور تمہارے بعد آنے والے تابعین تم سے سیکھیں،اور یہ سلسلہ دنیا کے خاتمے تک چلتا رہے"

(6)
مسند احمد میں حضرت سہل بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :-

"ان امراۃ اتتہ فقالت یا رسول اللہ الطلق زوجی غازیاً وکنت اقتدی بصلاتہ اذا صلی و بفعلہ کلہ فاخبرلی یعمل یبلغی عملہ حتی یرجع۔۔۔الخ"
(مسند احمد ،جلد3،صفحہ439،مسند معاذبن انس رضی اللہ عنہ،و رواہ الہیثمی۔۔۔۔۔)
"ایک عورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ، کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا شوہر جہاد کے لئے چلاگیا ہے، اور جب وہ نماز پڑھتا تو میں اس کی پیروی کرتی تھی، اور اس کے تمام افعال کی اقتداء کرتی تھی، اب آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے اس کے عمل 0یعنی جہاد) کے برابر پہنچادے۔۔۔الخ"

یہاں اس خاتون نے صراحۃً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں اپنے شوہر کی صرف نماز میں نہیں، بلکہ تمام افعال میں اقتداء کرتی ہوں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔

(7)
جامع ترمزی میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص میں دو خصلتیں ہوں گی اللہ تعالٰی اسے شاکر و صابر لکھے گا، و خلتیں یہ ہیں :-
"من نظرنی دینہ الیٰ من ھو فوقہ فاقتدیٰ بہ و نظر فی دنیاہ الیٰ من ھردونہ فحمداللہ"
"جوشخص دین کے معاملے میں اپنے سے بلند مرتبہ شخص کو دیکھے اور اس کی اقتداء کرے، اور دنیا کے معاملے میں نیچے کے کسی شخص کو دیکھے اور اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس (اللہ) نے مجھے اس سے اچھی حالت میں رکھا"
(جامع ترمزی بشرح ابن العربی،جلد9،صفحہ317،ابواب القیامہ باب بلاترجمہ)
(جاری ہے)